Skip Ribbon Commands
Skip to main content
Navigate Up
Sign In
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی
 
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) وطنِ عزیز میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تدریس و تعلیم کے لیے 1991 میں قائم ہوئی۔زیادہ توجہ اس امر پر تھی کہ تعلیم و تعلّم کا ایسا انضباطی ماحول قائم کیا جائے‘جہاں ملکی صنعت کی فنی معاونت کا اہتمام کر کے تکنیکی خود انحصاری کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ بھر پور توجہ دی جاسکے۔1993 میں حکومتِ پاکستان نے نسٹ کو چارٹر عطا کردیا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تھوڑے عرصے میں نسٹ نے اپنےمنفرد دائرۂ عمل‘مثالی تعلیمی و تحقیقی ماحول اور ضروریات و سہولیات کی فراہمی میں بے بدل کامرانیوں کی بدولت علمی مقام و وقار اپنے نام کر لیا۔اب نسٹ میں سائنس اورٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کے بلند پایہ ماہرینِ تعلیم‘ان تھک محققین اور پُرعزم طلبا کی بڑی تعداد مصروفِ عمل ہے۔اُن کی محنت کی بدولت تحقیق کے حیران کُن در کُھل رہےہیں اور ان کی عملی صورت ہوشربا ایجادات کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔یوں اکیسویں صدی کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے ملکی صنعت کو کم خرچ اور بالانشیں کمک ملی۔ترقی کا سفر جاری ہے‘اسی جذبے سے جاری رہے گا اور ان شاء اللہ تعالیٰ نسٹ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جدّت طرازی کے فروغ کےساتھ ساتھ صنعتی پیچیدگیوں کو آسانیوں میں ڈھالنے کا مرکز بن جائے گی۔نسٹ نئے دور کی یونیورسٹی ہے جہاں تدریس و تحقیق کے نئے انداز اپنائے جارہے ہیں۔پوسٹ گریجوایٹ تعلیم کی انفرادیت نسٹ میں پڑھائے جانے والے انڈر گریجوایٹ پروگراموں پر توجہ میں کمی نہیں آنے دیتی۔یہاں بھی تدریس کی جڑیں تحقیق سے جا ملتی ہیں۔نسٹ کی تخلیقاتِ جدید اور ایجاداتِ نو سے نئے زمانے کی عکاسی ہوتی ہے۔اس میں منظم ومنضبط ماحول اور ہر ضرورت پورا کرنے کی لگن کا بڑا ہاتھ ہے‘جونئی راہیں بلکہ نئی دنیائیں تلاش کرنے اور ڈھونڈ نکالنے میں حددرجہ ممدومعاون ثابت ہورہی ہے۔نسٹ نےغور کیا‘طے کیا اورپھر اس پر عمل پیرا ہے کہ یہ دور تعلیم و تحقیق میں کامرانیاں حاصل کرنے کے لیے تنہا پروازی کا دور نہیں۔چنانچہ افکار اور کامیابیوں کومزید مفید بنانے کے لیے عالمی تعلیمی و تحقیقی حلقوں سےربط باہمی کی خاطردنیا کی نامور درس گاہوں اور تحقیقی اداروں سے باضابطہ تال میل کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس کے لیے نسٹ میں ایسے ادارے قائم کیے گئے ہیں جو شب و روز ان روابط سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔بیرونِ ملک تعلیمی دوروں و لیکچروں اور غیر ملکی ماہرین کے اپنے ہاں فنی خطابات و رہنمائی اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جن کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں۔


تعلیمی اداروں کے معیار کے تعین کے لیےمخصوص بین الاقوامی ادارے ناقابلِ تصورچھلنیوں سے گزار کر یونیورسٹیوں کی کارگزاری پر کڑی نظر رکھتے اور عالمی برادری کو ان کے مقام سے آگاہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس وقت دنیا کی پانچ سو اور ایشیا کی ایک سو بیس ممتاز یونیورسٹیوں کی فہرست میں نسٹ اور پاکستان کا نام چمک اور دمک رہا ہے۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی
اسلام آباد پاکستان H-12
2017 © تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں